دودھ کا جوش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مامتا یا مادری محبت کا تموج۔ "دودھ کا جوش دل میں کچوکے لے رہا تھا۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٥٣ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'دودھ' کے بعد 'کا' بطور حرف اضافت لگانے کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جوش' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم اسستعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٠٠ء سے "موؤدہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مامتا یا مادری محبت کا تموج۔ "دودھ کا جوش دل میں کچوکے لے رہا تھا۔"      ( ١٩٢٩ء، آمنہ کا لال، ٥٣ )

جنس: مذکر